Pride hath a Fall Story With Moral

The story is about a proud and boastful peacock named Percy on the Moral “pride hath a fall“. Percy considers himself the most beautiful bird in the forest and mocks the other birds for their plainness. A wise old owl named Oliver warns him that pride hath a fall, but Percy ignores him. During a storm, a branch falls on Percy’s head, injuring him and ruining his feathers. Percy realizes his mistake and apologizes to the other birds, becoming more humble and respectful. The Pride Hath a Fall story conveys the message that pride and arrogance can lead to downfall, while humility and kindness can foster growth and harmony. Pride hath a fall meaning in Urdu is “غرور کا زوال ہوتا ہے” (ghuroor ka zawal hotaa he).

Pride hath a Fall Story With Moral

Pride hath a Fall Story | 150 words

Once upon a time in a small village, there lived a proud and boastful peacock named Percy. With his vibrant feathers and graceful dance, Percy considered himself the most beautiful bird in the entire forest. He spent his days strutting around, displaying his magnificent plumage, and mocking the other birds for their plain appearances.

One day, a wise old owl named Oliver observed Percy’s arrogant behavior. Determined to teach him a lesson, Oliver approached Percy and said, “Dear Percy, your beauty is indeed remarkable, but remember, pride hath a fall.”

Dismissing the owl’s advice, Percy laughed and continued his haughty ways. However, fate had a plan in store for him. During a heavy rainstorm, Percy sought shelter under a tall tree. As the wind blew fiercely, a strong gust dislodged a large branch, causing it to fall on Percy’s proud head.

In pain and embarrassment, Percy realized the consequence of his arrogance. He realized that true beauty lies in humility, not in boastfulness. As Percy recovered, he humbly apologized to the other birds, seeking their forgiveness for his past behavior.

From that day on, Percy transformed into a more humble peacock. He learned the importance of respecting others and acknowledging their unique qualities. Percy’s fall taught him that pride leads to downfall, while humility nurtures growth and builds lasting relationships.

The moral of this story is clear: Pride hath a fall. It serves as a reminder that excessive pride and arrogance can blind us to our own flaws and hinder personal growth. Humility, on the other hand, allows us to learn from our mistakes, embrace others’ strengths, and foster meaningful connections.

Pride hath a Fall Story in Urdu | 150 words

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں پرسی نام کا ایک مغرور اور مغرور مور رہتا تھا۔ اپنے متحرک پنکھوں اور دلکش رقص سے پرسی خود کو پورے جنگل کا سب سے خوبصورت پرندہ سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے دن اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے گزارے، اپنے شاندار پنکھوں کی نمائش کرتے ہوئے، اور دوسرے پرندوں کو ان کی سادہ شکلوں کا مذاق اڑایا۔

ایک دن، اولیور نامی ایک عقلمند بوڑھے الّو نے پرسی کے متکبرانہ رویے کو دیکھا۔ اسے سبق سکھانے کے عزم کے ساتھ، اولیور پرسی کے پاس گیا اور کہا، “پیارے پرسی، آپ کی خوبصورتی واقعی قابل ذکر ہے، لیکن یاد رکھنا، غرور کو زوال ہے۔”

اُلّو کی نصیحت کو مسترد کرتے ہوئے، پرسی ہنسا اور اپنی مغرورانہ روشیں جاری رکھی۔ تاہم، قسمت نے اس کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا تھا. شدید بارش کے طوفان کے دوران، پرسی نے ایک اونچے درخت کے نیچے پناہ لی۔ جیسے ہی ہوا زور سے چل رہی تھی، ایک تیز جھونکے نے ایک بڑی شاخ کو اکھاڑ پھینکا، جس سے وہ پرسی کے فخریہ سر پر گر گئی۔

درد اور شرمندگی میں، پرسی کو اپنے تکبر کا نتیجہ معلوم ہوا۔ اس نے محسوس کیا کہ حقیقی خوبصورتی عاجزی میں پنہاں ہے، گھمنڈ میں نہیں۔ جیسے ہی پرسی صحت یاب ہوا، اس نے عاجزی سے دوسرے پرندوں سے معافی مانگی، اپنے ماضی کے رویے کے لیے ان سے معافی مانگی۔

اس دن سے، پرسی ایک زیادہ شائستہ مور میں بدل گیا۔ اس نے دوسروں کا احترام کرنے اور ان کی منفرد خصوصیات کو تسلیم کرنے کی اہمیت سیکھی۔ پرسی کے زوال نے اسے سکھایا کہ فخر زوال کا باعث بنتا ہے، جبکہ عاجزی ترقی کو فروغ دیتی ہے اور دیرپا تعلقات استوار کرتی ہے۔

اس کہانی کا اخلاق واضح ہے: غرور کا زوال ہے۔ یہ ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ غرور اور تکبر ہمیں اپنی خامیوں سے اندھا کر سکتا ہے اور ذاتی ترقی کو روک سکتا ہے۔ دوسری طرف، عاجزی ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے، دوسروں کی طاقتوں کو اپنانے، اور بامعنی روابط کو فروغ دینے کی اجازت دیتی ہے۔

Pride hath a Fall Story | 250 words

Once upon a time, in a quaint village nestled amidst rolling hills, there lived a skilled and hardworking blacksmith named Samuel. He was known throughout the land for his exceptional craftsmanship and unwavering dedication to his craft. However, there was one flaw in Samuel’s otherwise admirable character – his excessive pride.

Samuel took immense pride in his work and often boasted about his skills to anyone who would listen. He believed himself to be the greatest blacksmith who ever lived and scoffed at the idea that anyone could rival his talent. His arrogance grew with each passing day, and soon, he began looking down upon his fellow villagers, considering them mere amateurs in comparison.

One day, a traveling merchant arrived in the village, carrying with him a legendary sword said to possess incredible power. The merchant announced that he would reward the finest blacksmith in the land with a generous sum if they could repair the sword’s broken hilt.

News of the merchant’s challenge spread quickly, and Samuel, consumed by his own pride, eagerly accepted. He saw this as an opportunity to prove his superiority to all and bask in the glory that would follow.

Days turned into weeks, and Samuel toiled tirelessly in his workshop, attempting to mend the sword. But despite his best efforts, he could not repair the intricate damage. Frustration gnawed at his pride, and desperation set in.

Unable to admit defeat, Samuel resorted to deception. He crafted a replica of the sword, disguising it to appear flawless. When the day of judgment arrived, he presented his counterfeit creation to the merchant with a triumphant smile.

As the merchant inspected the sword, his eyes narrowed with suspicion. He recognized the craftsmanship was far from genuine, and in a voice filled with disappointment, he said, “Samuel, your deceit has been uncovered. Your pride hath brought you to this fall.”

The villagers gasped in disbelief as the truth came to light. Samuel, now stripped of his pride, hung his head in shame. He realized that his arrogance had blinded him, preventing him from accepting his limitations and seeking help when needed.

From that moment forward, Samuel transformed into a humbler version of himself. He sought forgiveness from the villagers and vowed to mend his ways. He embraced the wisdom that true greatness lies not in self-praise, but in the ability to acknowledge one’s weaknesses and learn from others.

The moral of this story is clear: Pride hath a fall. It serves as a poignant reminder that excessive pride can cloud our judgment and lead us astray. Samuel’s downfall teaches us the importance of humility, integrity, and the willingness to recognize and learn from our limitations. It is through humility that we find the path to growth, self-improvement, and the respect and admiration of others.

Pride hath a Fall Story | 250 words

ایک زمانے میں، پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک پرانے گاؤں میں، سیموئیل نام کا ایک ہنر مند اور محنتی لوہار رہتا تھا۔ وہ اپنی غیر معمولی کاریگری اور اپنے دستکاری کے لیے غیر متزلزل لگن کے لیے پورے ملک میں جانا جاتا تھا۔ تاہم، سیموئیل کے قابل تعریف کردار میں ایک خامی تھی – اس کا ضرورت سے زیادہ فخر۔

سیموئیل کو اپنے کام پر بہت فخر تھا اور جو بھی سنتا تھا اس پر اکثر اپنی مہارتوں پر فخر کرتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا لوہار مانتا تھا جو اب تک زندہ رہا اور اس خیال کا مذاق اڑایا کہ کوئی بھی اس کے ہنر کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا غرور بڑھتا گیا، اور جلد ہی، اس نے اپنے ساتھی گاؤں والوں کو ان کے مقابلے میں محض شوقیہ سمجھ کر انہیں حقیر دیکھنا شروع کر دیا۔

ایک دن، ایک سفر کرتا ہوا سوداگر گاؤں پہنچا، اس کے ساتھ ایک افسانوی تلوار تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ناقابل یقین طاقت کا مالک ہے۔ سوداگر نے اعلان کیا کہ اگر وہ تلوار کی ٹوٹی ہوئی چوٹی کو ٹھیک کر سکے تو وہ زمین کے بہترین لوہار کو فراخ دلی سے انعام دے گا۔

تاجر کے چیلنج کی خبر تیزی سے پھیل گئی، اور سموئیل نے، جو اپنے ہی غرور میں مبتلا تھا، بے تابی سے قبول کر لیا۔ اس نے اسے سب پر اپنی برتری ثابت کرنے اور اس کے بعد آنے والی شان و شوکت سے لطف اندوز ہونے کے موقع کے طور پر دیکھا۔

دن ہفتوں میں بدل گئے، اور سیموئیل نے تلوار کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی ورکشاپ میں انتھک محنت کی۔ لیکن اپنی پوری کوشش کے باوجود وہ پیچیدہ نقصان کو ٹھیک نہیں کر سکا۔ مایوسی نے اس کے غرور کو جھنجھوڑ دیا، اور مایوسی پیدا ہو گئی۔

شکست تسلیم کرنے سے قاصر، سیموئیل نے فریب کا سہارا لیا۔ اس نے تلوار کی ایک نقل تیار کی، اسے بے عیب ظاہر کرنے کے لیے بھیس بدل کر۔ جب فیصلے کا دن آیا تو اس نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنی نقلی تخلیق سوداگر کے سامنے پیش کی۔

جب سوداگر نے تلوار کا معائنہ کیا تو اس کی آنکھیں شک سے جھک گئیں۔ اس نے پہچان لیا کہ کاریگری اصلی سے بہت دور تھی، اور مایوسی سے بھری آواز میں اس نے کہا، “سموئیل، تیرا فریب کھل گیا ہے، تیرا غرور تجھے اس زوال تک لے آیا ہے۔”

حقیقت سامنے آتے ہی گاؤں والوں نے بے یقینی سے ہانپ لیا۔ سموئیل، اب اپنا غرور چھین چکا تھا، شرم سے سر جھک گیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے تکبر نے اسے اندھا کر دیا ہے، اسے اپنی حدود کو قبول کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد لینے سے روک دیا ہے۔

اس لمحے سے آگے، سیموئیل اپنے آپ کے ایک عاجز ورژن میں تبدیل ہو گیا۔ اس نے گائوں والوں سے معافی مانگی اور اپنے طریقے ٹھیک کرنے کا عزم کیا۔ اس نے اس حکمت کو قبول کیا کہ حقیقی عظمت خود کی تعریف میں نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور دوسروں سے سیکھنے کی صلاحیت میں ہے۔

اس کہانی کا اخلاق واضح ہے: غرور کا زوال ہے۔ یہ ایک پُرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ غرور ہمارے فیصلے پر بادل ڈال سکتا ہے اور ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔ سیموئیل کا زوال ہمیں عاجزی، دیانتداری، اور اپنی حدود کو پہچاننے اور سیکھنے کی خواہش کی اہمیت سکھاتا ہے۔ عاجزی کے ذریعے ہی ہم ترقی، خود کو بہتر بنانے اور دوسروں کے احترام اور تعریف کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔

Pride hath a Fall Story | 500 words

Once upon a time, in the kingdom of Veridia, there lived a young prince named Alexander. He was known for his remarkable intelligence, charismatic personality, and unmatched swordsmanship skills. Prince Alexander had always been showered with praise and adoration from the people of the kingdom, which led to the growth of his pride.

With each passing day, Alexander’s pride soared higher and higher. He believed himself to be invincible, destined for greatness. His arrogance became evident in his interactions with others. He dismissed the advice of his advisors, belittled his fellow knights, and treated the commoners with disdain.

One day, news arrived in the kingdom that a fierce dragon had emerged from the depths of the mountains. It ravaged the villages, terrorizing the people and burning everything in its path. The king, desperate to protect his kingdom, announced a competition. The one who could slay the dragon would be granted a place by his side and would become the future ruler of Veridia.

Prince Alexander, driven by his inflated ego, saw this as an opportunity to showcase his bravery and skill. He disregarded the warnings of the wise elders and ventured alone into the treacherous mountains, determined to confront the dragon.

As he reached the dragon’s lair, Alexander drew his sword and charged forward, fueled by arrogance and blind courage. But the dragon was no ordinary adversary. Its immense size and fiery breath proved to be more formidable than he had ever imagined.

In a moment of recklessness, Alexander made a grave mistake. He underestimated the dragon’s strength and agility. With a single swoop of its tail, the dragon sent him sprawling across the ground, his sword clattering out of reach. As Alexander lay dazed and defeated, the dragon prepared to deliver the final blow.

Just when it seemed all hope was lost, a humble village girl named Eliza appeared. She had been watching from afar, witnessing Alexander’s downfall. Ignoring her fear, Eliza stepped forward, armed only with a slingshot and a heart full of determination.

Eliza knew that pride had blinded Alexander, clouding his judgment and preventing him from seeing the dragon’s true power. With each stone she hurled, she aimed for the dragon’s vulnerable spots, exploiting its weaknesses. Slowly, but steadily, she weakened the mighty beast.

Finally, with a resounding thud, the dragon fell to the ground, defeated. The kingdom rejoiced, celebrating the bravery and resourcefulness of the unlikely hero, Eliza. Meanwhile, Alexander lay humbled and bruised, realizing the consequences of his pride.

In the aftermath, Alexander approached Eliza, filled with gratitude and humility. He confessed his arrogance and acknowledged the invaluable lesson he had learned. Eliza forgave him, reminding him that pride hath a fall, but it is in the recognition of one’s mistakes that true growth can occur.

From that day forward, Prince Alexander transformed into a different leader. He valued the wisdom of his advisors, treated his fellow knights with respect, and listened to the concerns of the commoners. He understood that true greatness lies not in overpowering others, but in compassion, humility, and the ability to learn from those around us.

The moral of this story is clear: Pride hath a fall. It serves as a powerful reminder that excessive pride and arrogance can lead to one’s downfall. Alexander’s journey teaches us the importance of humility, empathy, and the willingness to acknowledge our mistakes. It is through humility that we can grow, build genuine connections with others, and become true leaders who inspire and uplift those around us.

Pride hath a fall meaning in Urdu

Pride hath a fall meaning in Urdu is “غرور کا زوال ہوتا ہے” (ghuroor ka zawal hotaa he).

Pride hath a fall meaning 

Pride hath a fall means that pride leads to decline and ruin. It implies that one should be careful of being too proud or overconfident, as it can cause one to lose everything.

Leave a Comment